|
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علٰی رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم
ومن یتولھم منکم فانہ منھم (المائدۃ:51)
''اور تم میں سے جو
انہیں دوست بنائے گا تویقینا وہ انہیں میں سے ہے''
مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں
سے دوستی کرنے والے کا انجام
عصر حاضر میں یہ حقیقت اور سچائی کھل
کر سامنے آگئی ہے اور ہر دور اور نزدیک والےکو یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ سارا عالمِ
کفر ،یہودونصاریٰ اور مرتدین سب مل کر اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف ایک جنگ پر
اکھٹے اور جمع ہوچکے ہیں ۔یہ کفارمسلمانوں میں کفر وشرک اور فسق وفجور پھیلارہے ہیں
نیز مسلمانوں کی سر زمین اور ان کے علاقوں پر قابض ہوچکے ہیں اور ان کے وسائل اور
اموال کی لوٹ کھسوٹ میں مشغول ہیں انہوں نے امتِ مسلمہ کوحقیر وذلیل اور بے وقعت
بنارکھا ہے ۔اس سلسلے میں ان کافروں کو مرتد حکمرانوں ،ان کی فوجوں ،اپنے ایجنٹوں ،آلہ
کاروں اورمنافقین کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور
اپنے قانون میں یہ فیصلہ کردیا ہے کہ جس نے بھی مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کی
اور مسلمانوں کے خفیہ راز ان تک پہنچائے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ
تعاون کیا توایسا شخص بلاشک وشبہ کافر اور مرتد ہے اس کی جان اور مال کی کوئی حرمت
نہیں بلکہ حلال ہے کیونکہ ایسا شخص کافروں سے دوستی اور ان کی مدد کرنے کی وجہ سے
اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہوگیا اور اللہ تعالیٰ اس سے لاتعلق۔
ارشاد
باری تعالیٰ ہے ''لایتخذ المؤمنین
الکافرین اولیآء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء الا ان تتقوا
منھم تقاۃ ویحذرکم اللہ نفسہ والی اللہ المصیر''
''اہل
ایمان ،مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو ہرگز دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا
تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں
الایہ
کہ تم ان (کافروں کے شر)سے بچناچاہواور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور تمہیں
اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جاناہے''(آل عمران:28)
یاایھاالذن
امنوا لاتتخذوا الیھود والنصاریٰ اولیاء بعضھم اولیآء بعض ومن یتولھم منکم فانہ
منھم''
''اے
اہل ایمان :یہود ونصاری کودوست نہ بناؤیہ توآپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں اور
تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا تویقیناًوہ انہی میں سے ہے''۔(المائدہ:51)
یہ ایک
محکم قرآنی نص ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ جو بھی کافروں ،یہودیوں
اور عیسائیوں سے موالات ودوستی کرے گا اورمومنوں کے خلاف ان کی مدد ونصرت کرے گا تو
وہ ان ہی کی طرح کا کافر ہوگااور دنیا اور آخرت میں جو انجام ان کافروں کا ہے وہی
انجام اس کا بھی ہوگا۔
''یاایھاالذین
امنوا لاتتخذوا اباءکم واخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان ومن یتولھم
منکم فاولئک ھم الظالمون''۔
''اے
لوگوجو ایمان لائے ہو!اپنے باپوں اور بھائیوں کودوست نہ بناؤ،اگر وہ ایمان کے
مقابلے میں کفر سے محبت رکھیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا سووہی لوگ
ظالم ہیں''۔(التوبہ:23)
اس
آیت کریمہ کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ''جو
کسی کافر ومشرک سے دوستی کرے گا وہ ان ہی کی طرح کا کافر ومشرک ہوگا''۔
ان الذین
ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدیٰ الشیطان سول لھم وأملیٰ لھم، ذلک
بانھم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ سنطیعکم فی بعض الامر واللہ یعلم اسرارھم''۔
''بےشک
وہ لوگ جو اپنی پیٹھوں پر پھر گئے ،اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ واضح ہوچکا
شیطان نے ان کے لیے (ان کا عمل)مزیّن کردیا اور ان کے لیے مہلت لمبی بتائی۔یہ اس
لیے کہ بے شک انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اس چیز کوناپسند کیا جو اللہ نے
نازل کی عنقریب ہم بعض کاموں میں تمہارا کہامانیں گے اور اللہ ان کے چھپانے کو
جانتا ہے''۔(محمد:26-25)
اس آیت
میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج
ہونے کا اصل سبب بیان کیا ہے اور وہ سبب یہ ہے کہ انہوں نے کافروں سے کہا کہ ''ہم
بعض کاموں میں تمہارا کہامانیں گے''پس مقام غوروفکر ہے کہ جس شخص نے کافروں سے صرف
اتنی بات کہی وہ مرتدہے حالانکہ اس نے کافروں سے موالات اور دوستی کی اور نہ ہی جنگ
میں مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد ونصرت کی ۔پھر جب ایسا شخص مرتد ہے تو اس شخص
کے متعلق کیا خیال ہے جو ان کافروں کاحلیف واتحادی بن جائے اور ان کے ایجنڈوں ،منصوبوں
اور پروگراموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے دوڑ دھوپ کرے؟یقیناً ایسا شخص
بالاولیٰ کافر ومرتد ہوگااور دنیا اور آخرت میں سزا کا حقدار۔اللہ تعالیٰ نے
کافروں کی مدد کرنے کرنے والے کو انہی کابھائی قراردیا ہے کیونکہ اس کا مسلمانوں سے
کوئی تعلق نہیں رہتا۔
الم تر الی الذین نافقوا
یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتاب لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم
احداً وان قوتلتم لننصرنکم واللہ یشھد انھم لکاذبون''۔
''کیا تونے ان لوگوں
کو نہیں دیکھا جنہوں نے منافقت کی ،وہ اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جنہوں نے اہل
کتاب میں سے کفر کیا ،اگرتمہیں نکالاگیا تو ضرور بالضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں
گے اور تمہارےبارے میں کبھی کسی کی بات نہیں مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی
توضرور بالضرور ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ شہادت ہے کہ بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے
ہیں''۔(الحشر:11)
اس آیت کریمہ میں
واضح اور روشن دلیل ہے کہ کافروں اور مشرکوں کے نکلنے ،ان کی مدد کرنے ،ان کے گٹھ
جوڑ اور باہمی اتحاد میں داخل ہونے کا وعدہ کرنا کفر اور نفاق ہے ۔پھر اس شخص کے
متعلق کیا خیال ہے جو عملاً کافروں کی مددکرے اور انہی کے لشکر کاحصہ اور رکن بن
جائے؟یقیناً ایسا شخص کفر میں ان کافروں کا بھائی بن چکاہے۔
سالقی فی قلوب الذین کفروا
الرعب فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان۔ ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن
یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب''۔
عنقریب میں ان لوگوں
میں جنہوں نے کفر کیا،رعب ڈال دوں گا ۔پس ان لوگوں کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور
ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔یہ اس لیے کہ بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی
مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے توبےشک اللہ بہت سخت عذاب والا
ہے''۔ (الانفال:13-12)
اللہ تعالیٰ نے اس
آیت کریمہ میں کافروں کی گردنیں مارنے کا سبب اورعلت بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ''انہوں
نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی''لفظ''المشاقۃ''کامطلب ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ
،اس کے رسول اور اہل ایمان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرنے والاہو۔پس اس آیت میں
اس بات پر صریح دلالت ہے کہ جو کوئی بھی کافروں،مشرکوں کی صف میں شامل ہوجائے ایسے
لوگوں کے ساتھ مل جائے گا جو اللہ تعالیٰ ،اس کے رسول اور اہل ایمان کی مخالفت کرنے
والے ہیں توایسا شخص کافروں کا ہی فرد اور حصہ کہلائے گاجن کی گردنیں اڑانے کو اللہ
تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے مباح قراردیا ہے اور ان سے جہنم میں ہمیشگی اور بہت بڑی
ذلت ورسوائی کا وعدہ کیا ہے۔
''یاایھا الذین امنوا ان
تطیعوا فریقاً من الذین اوتوا الکتاب یردوکم بعد ایمانکم کافرین''۔
اے لوگو جو ایمان
لائے ہو:اگر تم ان لوگوں میں سے کچھ لوگوں کا کہنا مانوگے ،جنہیں کتاب دی گئی ہے تو
وہ تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنادیں گے۔''(آل عمران:100)
پس جس نے بھی
مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کافروں کا کہناماناتو ایسا شخص قرآن کریم کی نص کے مطابق
کافر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے
مسلمانوں کو کافروں سے الگ اور علیحدہ رہنے کا حکم دیا ہے اور واضح کیا کہ جو بھی
ان کے ساتھ ہوگا اور ان کے کفر پر ان کے ساتھ تعاون کرے گا تو وہ انہی کی طرح
کاکافر ہوگااور دنیا اور آخرت میں اس کا حکم بھی انہی کے حکم کی طرح ہوگا۔اللہ
تعالیٰ نے فرمایا:
وقد نزل علیکم فی الکتاب ان
اذا سمعتم آیات اللہ یکفر بھا ویستھزا بھا فلا تقعدوا معھم حتیٰ یخوضوا فی حدیث
غیرہ انکم اذاً مثلھم ان اللہ جامع المنافقین والکافرین فی جھنم جمیعاً''۔
''اور بلاشبہ اس نے
تم پر کتاب میں نازل فرمایا ہے کہ جب تم اللہ کی آیات سنو کہ ان کے ساتھ کفر کیا
جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتاہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے
علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں۔بے شک تم بھی اس وقت ان جیسے ہو،بیشک اللہ
منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے''۔
نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ہر ایسے مسلمان سے بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کیا جو مشرکوں کے
درمیان رہتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
''انا بریء من کل مسلم یقیم
بین اظھر المشرکین'' (رواہ ابوداؤد والترمذی)
''میں ایسے ہرمسلمان
سےبیزار اور لاتعلق ہوجو مشرکین کے درمیان رہتا ہے''۔
رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک اس مسلمان کے بارے میں ہے جو فقط مشرکین کے درمیان
ٹھہرا ہوا ہے تو ایسے شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ان
کافروں اور مشرکوں کے ساتھ تعاون کرے اور ان کا آلۂ کار اور جاسوس بن جائے؟
آخر میں ہم ہر ایسے شخص کو ڈراتے اور
خبردار کرتےہیں کہ جسے اس کانفس امریکیوں اور ان کے علاوہ دیگر کافروں کے ساتھ
تعاون کرنے پر اکسائے تو وہ سن لے وہ جہاں کہیں بھی ہوگا مجاہدین کے ہاتھ ضرور اس
تک پہنچیں گے ۔ان شاء اللہ اور اس کی سزا اور اس کے امریکی آقاؤں کی سزاایک ہی
ہوگی یعنی ''فاذا لقیتم الذین
کفروا فضرب الرقاب''پس جب
تم کافروں سے ملو تو ان کی گردنیں ماروں''۔(محمد:4)
چنانچہ ہم ان کو وقت
ختم ہونے سے پہلے پہلے توبہ کی دعوت دیتے ہیں پس جس نے توبہ کی تویقیناً اللہ نے اس
کی توبہ قبولکرلی اور اس نے اپنے آپ کو دنیوی اور آخروی سزا سے بچالیا اور جو
خبردار کردیتا اور ڈرادیتا ہے تویقیناًایسا شخص معذور ہوتا ہے۔
والحمدللہ رب العالمین
از قلم :فضیلۃ الشیخ
عبدالحکیم حسّان حفظہ اللہ
اردو ترجمہ
ابوالبراء الاثری حفظہ اللہ
|

آن لائن پڑھیں |

پفلٹ ڈاؤن لوڈ کریں |

پی ڈی ایف |
نوٹ :مسلمانوں سے
التماس ہے کہ اس پمفلٹ کو ڈاؤن لوڈکریں خود بھی پڑھیں اپنے گھر والوں اور دوست
احباب کو بھی پڑھائیں اور اگر استطاعت ہو تو اس کو پرنٹ کرواکے مساجد میں تقسیم
کریں تاکہ مسلمان جہنم کے راستے سے بچ سکیں ۔جزاک اللہ خیرا
اخوانکم فی الاسلام
:
مسلم ورلڈ ڈیٹا
پروسیسنگ پاکستان
http://www.muwahideen.tk
info@muwahideen.tk |