آلِ سعود کے حکمرانوں کا کفر

شیخ ابو بصیر مصطفی حلیمہ الطرطوسی حفظہ اللہ

ترجمہ : ابوعبدالرحمن السلفی حفظہ اللہ

یہ ایک کمزور حکومت ہے جیسے کہ یہ ہمیشہ رہی ہے۔ یہ اپنے پاں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، نہ ہی اسے اپنے لوگوں پر اعتماد ہے۔ ماضی میں آل سعود نے انگریزوں کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایا تاکہ اپنی سلطنت کو وسیع اور ”اخوان تحریک“شیخ محمدبن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے پیروکار “ کے خلاف مظبوط کر سکیں۔ اور اس میں یہاں تک گر گئے کہ سعودی حکومت کے بانی انگریزوں سے تنخواہ لیتے تھے، جسکا اعتراف اس کے پوتے نے خود کیا ہے۔ اور آج عبدالعزیز کے بیٹوں کی بدولت ، حکومت نے اپنے آپ کو امریکہ کی گود میں پھینک دیا ہے، ان کی ہر تدبیرمیں ساتھ دیتے ہیں۔ان کی ہرخواہش کا احترام کرتے ہیں اور اس کے بدلے امریکہ سے اپنی حفاظت کی ضمانت لی ہے اور امریکہ سے وعدہ لیا ہے کہ ان کی حکومت کو اکیلا نہ چھوڑے اور ان کی حکومت تبدیل کرنے میں کسی کا ساتھ نہ دے۔ اگر یہ اپنے وعدوں میں سچے ہو تے تو اپنے ملک کی حفاظت اپنے مسلمان لوگوں سے کرتے اور جو قدرتی وسائل اسے اﷲ نے بخشے ہیں اس سے ایک مضبوط فوج تیار کر تے ، جس سے امریکہ کا دل خوف سے ہل جاتا، ایک ایسی فوج جس کے پاس قوت اور صحیح عقیدہ ہو، لیکن بدقسمتی سے انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

اب آپ پورا فتویٰ پڑھیے :
 

 

 

 

Back to Home