اسلام کے خلاف سازشیں مسلمانوں کو انتباہ

امام حرم مسجد نبوی فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن الحذیفی کا خطبہ جمعہ

 

تمام تعریفیں اللہ بزرگ وبرتر کے لئے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے' حقیقی اور مکمل بادشاہت اسی کو زیبا ہے۔اللہ تعالٰی نے اپنے نیک بندوں کے دلوں کو ہدایت اور یقین سے منور کیا اور ان کو روشن وحی سے تقویت بخشی' جس کو چاہا اپنی رحمت سے ہدایت بخشی اور جس کوچاہا اپنی حکمت سے گمراہ کیا' چنانچہ کفار اور منافقین کے دل نور حق سے اندھے اور اس کی روشنی قبول کرنے سے محروم ہوگئے ۔ اللہ کی حجت اور واضح دلیل اس کی تمام مخلوق پر تمام ہوگئی۔

میں اپنے رب کی تعریف بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجالاتا ہوں جیسے کہ اس کی جلیل القدر ذات اور اس کی عظیم المرتبت بادشاہت کے شایان شان ہے' اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں' اس کا کوئی شریک نہیں' وہ روز جزا کا مالک ہے' اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی ہمارے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں' پہلے اور بعد والی تمام مخلوق کے سردار ہیں ان کو قرآن کریم کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا گیا جو کہ مسلمانوں کے واسطے دنیا اور آخرت کے لئے ہدایت اور خوشخبری کا باعث ہے ۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام اور برکتیں بھیجئے اور ان کے آل و اصحاب اور ان کے تابعین پر۔

حمد وثناء کے بعد !

اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسلام کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہو۔

بنی نوع انسان پر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت وہ دین حق ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے کفر کی موت اور اس کی گمراہی کن اندھیروں سے انسان کو نجات دے کر زندگی اور بصیرت عطا کی' ارشاد باری تعالیٰ ہے "ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لئے روشنی کردی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا تھا کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہوں اور ا س سے نکل نہ سکے۔" (سورۃ انعام) ۔ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے "بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔" (سورہ رعد)

آسمان و زمین میں سابقہ اور بعد میں آنے والی تمام مخلوق کے لئے اللہ کا دین اسلام ہی ہے' اگرچہ شریعت ہر نبی کی مختلف تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے لئے وہ شریعت پسند کی جو اس نبی کی امت کے لئے مناسب تھی اور پھر اپنی حکمت اور علم کے مطابق جس شریعت کو چاہا باقی و قائم رکھا۔

چنانچہ سید البشر حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کردیا اور اس کائنات کے جن و انس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ پر ایمان لانے کا مکلف کردیا' ارشاد باری تعالیٰ ہے "اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! کہہ دو لوگو' میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا یعنی اس کا رسول ہوں' وہ جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے' اس کے سوا کوئی معبود نہیں' وہی زندگانی بخشتا اور موت دیتا ہے' تو اللہ پر اور ا س کے رسول پیغمبر امی پر (جو اللہ پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں) ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔ (سورہ اعراف)

اسی طرح حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جس کسی بھی یہودی یا نصرانی نے میری بعثت اور میری رسالت کے بارے میں سنا اور اس کے باوجود مجھ پر ایمان نہیں لایا تو وہ جہنمی ہے۔ "چنانچہ ہر وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا وہ جہنم میں جائے گا۔

اور اللہ کے نزدیک اسلام کے علاوہ کوئی دین قابل قبول نہیں' ارشاد باری تعالیٰ ہے "دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔" (آل عمران)۔ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے"اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔" (آل عمران)

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل ترین شریعت اور کامل ترین دین کے ساتھ مبعوث فرمایا' اس دین میں اللہ تعالیٰ نے ہر اس اساس اور بنیاد کو جمع فرمادیا ہے جو کہ سابقہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے ادیان میں موجود تھی' ارشاد باری تعالیٰ ہے "اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس کے اختیار کرنے کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا' وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا' جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے' اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے' اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھادیتا ہے۔" (الشوریٰ)

یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء اور پادری اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین برحق ہے' لیکن ان کا غرور و تکبر' دنیا اور ناجائز خواہشات کی محبت اور مسلمانوں سے ان کے حسد اور کینہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور قبول اسلام سے روکا ہوا ہے۔ اسلام کو قبول کرنے سے رکنا ان کو کوئی نفع نہیں پہنچائے گا۔ ان یہود و نصاریٰ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی اپنی کتابوں میں تحریف کردی تھی اور اپنے دین عیسائیت اور یہودیت کو اصل حالت سے تبدیل کردیا تھا' چنانچہ وہ لوگ واضح کفر اور گمراہی میں مبتلا ہیں ۔

حق و باطل کے درمیان اس مختصر موازنہ اور تمہید کے بعد ہم اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے ایک طرف مخلتف ادیان کے درمیان اتحاد اور قربت کی طرف دعوت دینے والی تحریکیں نہایت اذیت اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ اس بے بنیاد اور باطل دعوت و تحریک کی بازگشت ان بعض نام نہاد مفکرین اور دانشوروں کی جانب سے سنائی دیتی ہے جو خود اسلامی عقیدے کی بنیادی اور اساسی معلومات سے ناواقف ہیں۔ موجودہ دور میں اس تحریک کے نقصان دہ اثرات کی سنگینی میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ اب جنگیں دینی عناد کی بنیاد پر لڑی جارہی ہیں اور باطل قوتوں کے ناجائز مفادات دین حق سے ٹکرا رہے ہیں ۔ اسلام ' یہود و نصاریٰ کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور جنت میں داخل ہوجائیں اور باطل سے آزاد ہوجائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "کہہ دو کہ اے اہل کتاب! جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں تسلیم کی گئی ہے اس کی طرف آؤ' یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا کارساز نہ سمجھے' اگر یہ لوگ اس بات کو نہ مانیں تو ان سے کہہ دو کہ تم لوگ گواہ رہو کہ ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ (آل عمران)

اسلام' یہود و نصاریٰ کو اپنے دین پر قائم رہنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ وہ اسلام کے مالیاتی اور امن وامان سے متعلق احکامات کی پابندی کریں' ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے "دین میں زبردستی نہیں' ہدایت صاف طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔" (البقرہ)

اسلام نے اس بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا دین باطل ہے اور یہ بھی اسلام کی رواداری' وسعت اور بنی نوع انسان کے لئے اس کی نصیحت اور خیر خواہی کا پہلو ہے تاکہ حق و باطل کی وضاحت کے بعد جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر پر قائم رہے۔ اگر یہود و نصاریٰ اور مشرکین' اسلام میں داخل ہوجائیں تو اسلام ان کے لئے اپنا دامن کشادہ کردے گا اور وہ مسلمانوں کے دینی بھائی بن جائیں گے' اس لئے کہ اسلام میں رنگ و زبان اور نسل کی بنیاد پر کوئی تعصب نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے""لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو اور اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔" (سورہ حجرات)

اسلامی تاریخ اسلام کی ان تعلیمات کی عملی شہادت ہے' اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اسلام' یہودیت اور نصرایت کے قریب ہوجائے اور ان میں کوئی جوڑ ہو تو یہ ناممکن بات ہے' اس کا حقیقت اور عملی زندگی سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے" اور برابر نہیں اندھا اور دیکھتا اور نہ اندھیرا اور نہ اجالا اور نہ سایہ اور نہ لو اور برابر نہیں جیتے اور نہ مردے اللہ سناتا ہے جس کو چاہے اور تو نہیں سنانے والا قبر میں پڑے ہوؤں کو تو تو بس ڈر کی خبر پہنچادینے والا ہے۔" اور جہاں تک یہ بات کہ مسلمان یہود ونصاریٰ سے اس معنی میں قریب ہوں کہ مسلمان اپنے بعض دینی احکام اور معاملات سے دستبردار ہوجائیں اور اپنے دینی احکام کی اتباع کرنے میں چشم پوشی اور غفلت برتیں محض ان یہود و نصاریٰ کی خوشنودی کے لئے تو یہ بھی ایک حق پرست مسلمان سے بعید ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے"جو لوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھوگے' خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے' بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔" (المجادلہ)

وحدت ادیان کی مخالفت کے باوجود ایک مسلمان کو اس کا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ یہود و نصاریٰ پر ظلم کرے' بلکہ ان کے لئے اپنے دل میں کشادگی رکھے۔ مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دین کا دفاع کرے' وقت پڑنے پر دین اسلام اور اہل اسلام کی مدد نصرت کرے اور کفر کا مقابلہ کرے اور اس پر نکیر کرے۔

ایک مسلمان کے لئے اپنے دینی تشخص اور اپنی امتیازی حیثیت کو قائم رکھنا' اسلام اور اپنے بنیادی عقائد کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور ایمان پر ثابت قدم رہنا یہ وہ امور ہیں جن کے ذریعہ ایک مسلمان دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرسکتا ہے اور اسی کے ذریعہ مسلمان کے جائز مصالح اور اس کی عزت و کرامت محفوظ رہ سکتی ہے اور اسی کے ذریعہ حق کی تائید اور باطل  کی تردید ممکن ہے۔

مختلف ادیان کے درمیان جوڑ اور وحدت کی تحریک اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور یہ ایک بہت بڑے فتنے و فساد میں ڈالنے والی' اسلامی عقیدے میں باطل نظریات کی پیوند کاری ' ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دوستی اور محبت رکھنے کے مترادف ہے' جبکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مومنات کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ثابت ہوں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔" (سورہ توبہ)

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار ہیں' چاہے ان میں آپس میں کتنے ہی گروہی اختلافات ہوں" ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور جو لوگ کافر ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو مومنو! اگر تم یہ کام نہ کروگے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔"  (سورہ انفال)

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر مشرکین سے کنارہ کشی اور مومنین سے دوستی اختیار نہ کی گئی تو لوگوں میں فتنہ و فساد پھیلے گا اور وہ اس طرح کہ لوگ اشتباہ میں پڑجائیں گے' مومنوں اور کافروں میں اختلاط اور میل ملاپ سے انتہائی وسیع پیمانے پر فساد پھیلے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔"   (المائدہ)

اسلام اور یہودیت میں وحدت اور جوڑ کس طرح ممکن ہے؟ اسلام انس و جن کے لئے اپنے صدق و صفا' مینارہ نور' انصاف و رواداری اور اپنی اخلاقی تعلیمات کی بلندی اور عمومیت میں اعلیٰ نمونہ پر ہے جبکہ یہودیت بنی نوع انسانی کے لئے کینہ پروری' تنگ دلی' اخلاقی گراوٹ' ظلم وزیادتی' لالچ اور طعن و تشنیع کی انتہائی پستی میں ہے ۔

ایک مسلمان کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام جیسی عبادت گزار بندی پر بدکاری کا الزام لگایا جائے جیسے کہ یہود یہ گھناؤنا الزام لگاتے ہیں؟

ایک مسلمان کیسے یہ برداشت کرسکتا ہے کہ یہود عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ولد الزنا کہیں؟ قرآن کریم اور یہودیوں کی نام نہاد اور خودساختہ مذہبی کتاب " تلمود" میں کیسے جوڑ اور اتحاد ممکن ہے؟

اسی طرح اسلام اور عیسائیت میں جوڑ اور اتحاد کیسے ممکن ہے؟ اسلام توحید و صفا مکمل شریعت اور رحمت و انصاف کا دین ہے جبکہ گمراہ ترین عیسائیت کا کہنا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے یا اللہ یا تینوں کے تیسرے ہیں' کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ معبود رحم مادر میں پرورش پائے؟ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ معبود کھانے' پینے' نیند اور سواری اور دیگر انسانی ضروریات کا محتاج ہو۔

جس گمراہ کن عیسائیت کا عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ ہو اس میں اور اسلام میں کیا جوڑ ہوسکتا ہے؟ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس انداز میں تعظیم بیان کرتا ہو کہ وہ اللہ کے بندے' بنی اسرائیل کے لئے پیغمبر اور افضل ترین پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔

اور جس طرح یہودیت اور عیسائیت کا اسلام سے جوڑ اور اتحاد ممکن  نہیں اسی طرح اہل سنت اور شیعوں کے درمیان بھی اتحاد و جوڑ کسی طرح ممکن نہیں۔

اہل سنت وہ ہیں کہ جو قرآن کریم اور  حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حامل اور علمبردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے دین کی حفاظت کی' اہل سنت نے اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کیا' اور اسلام کی سنہری تاریخ رقم کی' جبکہ روافض (شیعہ) وہ لوگ ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سب و شتم اور لعن و ملامت کرتے ہیں جو اسلام کی بیخ کنی کے مترادف ہے اس لئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہی تھے' جنہوں نے ہم تک دین منتقل کیا چنانچہ اگر کوئی شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کرتا ہے تو گویا وہ دین کو منہدم کررہا ہے۔

ذرا بتلائیے کہ اہل سنت اور شیعوں میں اتحاد اور جوڑ کیسے ممکن ہے' جبکہ شیعہ' حضرات ثلاثہ یعنی حضرت ابوبکر' حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں' حالانکہ اگر ان کے پاس عقل ہوتی تو وہ یہ سوچتے کہ حضرات ثلاثہ کو طعن و تشنیع کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع کے مترادف ہے۔ جو گستاخ صحابہ ہے وہ گستاخ رسول بھی ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں انہوں نے آپ کے وزیر کا کردار ادا کیا اور آپ کے وصال کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے تو کیا جن کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا ہوا اس طعن و تشنیع کی روا رکھی جاسکتی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو وہ حضرات ہیں کہ جنہوں نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں شرکت کی' ایسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع شیعیت کے گمراہ اور باطل ہونے کی ایک واضح دلیل ہے۔

اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں کے شوہر تھے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیغمبر کے لئے اچھے ساتھی ہی اختیار کرتے ہیں۔

اگر حضرات خلفائے ثلاثہ ایسے ہی تھے جیسے کہ یہ شیعہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کے شر اور دشمنی سے کیوں آگاہ نہیں کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرات خلفائے ثلاثہ پر طعن و تشنیع خود حضرت علی رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کے مترادف ہے' اس لئے کہ حضرت علی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسجد نبوی میں بخوشی بیعت خلافت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شادی اپنی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیعت بھی کی اور حضرت عثمان رضی اللہ سے بھی بیعت کی' حضرت علی رضی اللہ عنہ ان تینوں حضرات کے وزیر' ان سے محبت کرنے والے اور ان کے خیر خواہ تھے' کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کافر سے سسرالی رشتہ قائم کرتے؟ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کافر سے بیعت کرتے؟ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک واضح بہتان ہے۔

اسی طرح شیعوں کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لعن طعن کرنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو طعن و تشنیع کرنے کے مترادف ہے اس لئے کہ یہ حضرت حسن رضی اللہ ہی تھے کہ جو بخوشی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے خلافت سے دست بردار ہوگئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں ہی اس کی پیش گوئی کرتے ہوئے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تعریف کی تھی' کیا نواسہ رسول کسی کافر کے لئے جو مسلمانوں پر حکمرانی کرے خلافت سے دستبردار ہوسکتے ہیں؟ اگر شیعہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت حسن رضی اللہ عنہ ان حضرات سے بیعت خلافت کرنے یا ان کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور تھے تو یہ بھی شیعوں کی بیوقوفی کی دلیل ہے اس لئے کہ یہ بات بھی درحقیقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضر حسن رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص اور گستاخی کے مترادف ہے۔

اور پھر یہ شیعہ کس منہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لعن طعن کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر ان کو مومنین کی "ماں" قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے"پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔" (احزاب)

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لعن طعن کرتا ہے تو وہ اس شخص کی "ماں" نہیں (اس لئے کہ قرآن کی رو سے وہ مومنین کی ماں ہے جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لعن طعن کرنے والا مومن نہیں) اور جس شخص کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا "ماں" ہیں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لعن طعن نہیں کرتا بلکہ ان سے محبت کرتا ہے (اس لئے کہ ان سے محبت کرنے والے مومنین ہیں)

اور پھر اہل سنت او رشیعوں کے درمیان جوڑ اور اتحاد کیسے ممکن ہوسکتا ہے جبکہ یہ شیعہ گمراہیت اور ضلالت کے سردار و امام (طاغوت) "خمینی" کو مہدی کا نائب قرار دیتے ہیں' اور نائب کو بھی اسی طرح معصوم ہونا چاہئے جسیے کہ اصل معصوم ہے تو جب امام مہدی معصوم ہیں تو خمینی جیسا گمراہ بھی معصوم ہوا' ذرا بتلائیے یہ کیسا تضاد ہے کہ خمینی جیسا واضح گمراہ امام مہدی جیسی معصوم شخصیت کا نائب ہو؟

روافض (شیعہ) نے اپنی کتاب "ولایت فقیہ" میں مذکورہ عقائد کے مطابق اپنے مذہب کو بنیاد ہی سے مسخ کردیاہے' حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی باطل مذہب کے بعض عقائد اس کے دیگر عقائد کی خود ہی نفی کرتے ہیں اور وہ مذہب مختلف قسم کے تضادات پرمشتمل ہوتا ہے چنانچہ یہی حال شیعہ مذہب کا ہے' اہل بیت شیعوں کے ان باطل عقائد سے بری الذمہ ہیں' شریعت اور عقل کی رو سے شیعہ مذہب کے باطل اور بے بنیاد ہونے پر اس قدر دلائل ہیں کہ ان کو بڑی مشقت سے ہی شمار کیا جاسکتا ہے' ہم شیعہ مذہب کے پیروکاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلام کے دائرے  میں داخل ہوجائیں ۔

اہل سنت والجماعت کا شیعوں سے ذرہ برابر بھی جوڑ نہیں' شیعہ' اسلام کے لئے یہود و نصاریٰ سے زیادہ ضرر رساں اور شر انگیز ہیں ان پر کبھی بھی اعتماد نہیں کرنا چاہئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان کی تاک میں لگے رہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے "یہ تمہارے دشمن ہیں ان سے بے خوف نہ رہنا اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے  ہیں ۔" (المنافقون)

شیعہ مذہب کی داغ بیل ایک یہودی "عبداللہ بن سبا" اور ایک مجوسی "ابولوء لوء" نے ڈالی ہے ان کے مذہب کا نسب نامہ یہودیوں اور مجوسیوں کی طرف لوٹتا ہے۔

لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے عقیدہ کا امتیازی تشخص برقرار رکھیں اور جو اللہ پسند کرتے ہیں اسی کو پسند کریں اور جو چیزیں اللہ کو ناگوار ہیں اس کو ناپسند کریں اور اہل اسلام آپس میں ایک دوسرے کے مددگار اور متحد ہوں۔

کفار کی قدیم تاریخ اور جدید حالات یہی بتاتے ہیں کہ ان کو مسلمانوں کے خلاف دشمنی پر ان کے کافرانہ عقائد نے برانگیختہ کیا ہوا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے"اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔"  (سورہ بقرہ)

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے' یہاں تک کہ اگر قدرت رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں ۔"  (سورہ بقرہ)

ان کافرانہ طاقتوں نے فلسطین میں یہودی حکومت کی بنیاد محض اسلام سے نبرد آزما ہونے اور علاقہ میں کشیدگی برقرار رکھنے کے لئے ڈالی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام ان استعماری قوتوں کے زیر اثر بہت سے دینی اور معاشرتی مشکلات اور بیماریوں میں مبتلا ہے۔

ان بڑے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ اسلامی ممالک میں شرعی عدالتوں کاخاتمہ اور ان کی جگہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور عدالتوں کا قیام ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے سعودی عرب نے اب تک شرعی عدالتوں کو جو کہ اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں باقی رکھا ہوا ہے اور توحید کا پرچم اسلامی ممالک میں بلند رکھا ہوا ہے۔

اور اب آخری چند سالوں میں یہود ونصاریٰ نے اسلامی ممالک میں عسکری طاقت کے ذریعہ قبضہ جمانے کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ ان ممالک میں ظاہری اعتبار سے خود مشکلات پیدا کرتے ہیں اور پھر مسلمانوں کے ظاہری ہمدرد بن کر ان خود ساختہ مشکلات کے حل کے لئے ان ممالک میں اپنے فوجی لشکر بھیجتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام اور خصوصاً خلیج کے ممالک میں مختلف جماعتوں اور مذاہب کے عنوان سے فوجی انقلاب کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے یہ انقلاب کبھی بعث پارٹی کے نام سے' کبھی عرب قومیت کے نام سے اور کبھی اشتراکیت اور کمیونزم کے نام سے رواج پاگئے ہیں' ان جماعتوں کا اسلام سے ذرہ برابر بھی واسطہ اور تعلق نہیں ۔ اس قسم کے نعروں اور جماعتوں نے صدام حسین جیسے فتنے عالم اسلام پر مسلط کردیئے جس کی وجہ سے دین' علم اور ترقی بے حد متاثر ہورہی ہے۔

ان طاقتوں نے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اور صدائے حق کو دبانے کے لئے جسمانی اور ذہنی ٹارچر کے تمام حربے استعمال کئے اور عالم اسلام کی صلاحیتیں یورپ کی طرف منتقل کروادیں چنانچہ جو ممالک ان فوجی انقلابات سے متاثر ہوئے وہ ہر اعتبار سے (دینی و اقتصادی) کمزور ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ بعض عرب ممالک میں باجماعت نماز ادا کرنا قابل سزا جرم ہے (لاحول ولا قوۃ الا باللہ) اسلامی عزت وکرامت اور غیرت ایمانی کہاں ہے؟

الغرض جب ان بڑی طاقتوں اور ان بڑے ممالک کے لئے وسائل مہیا ہوگئے اور راہیں ہموار ہوگئیں تو انہوں نے خود ساختہ مسائل پیدا کرکے ان مسائل کے حل کو فوجی مداخلت کا ذریعہ بنایا جبکہ اس سے قبل یہ طاقتیں اقتصادی اور معاشی طور پر علاقہ کے اسلامی ممالک میں اثر ورسوخ حاصل کرچکی تھیں۔ اس فوجی مداخلت کے بعد ان بڑی طاقتوں کے چھپے ہوئے عزائم آشکارا ہوگئے ہیں اور وہ یہ کہ محض دینی عداوت کے پیش نظر اس علاقہ کو آپس میں نبرد آزما چھوٹی چھوٹی سلطنتوں میں تقسیم کرکے اس کے امن وامان کو متاثر کرنا اور اس میں مستقل کشیدگی برقرار رکھنا ہیں۔ اور خصوصیت کے ساتھ ان بڑی طاقتوں کی نظریں حرمین شریفین پر ہیں اور مملکت سعودی عرب سے ان کو زبردست عداوت ہے اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حرمین شریفین بہرحال اسلام کے مراکز اور قلعے ہیں اور اب تو اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے امریکہ'  برطانیہ اور ان کے حواریوں اور تمام کافرانہ طاقتوں کے شرپسند عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں ان میں سے کسی پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے اورمملکت سعودی عرب کے ساتھ ان طاقتوں کا عناد اور ضد اب اس طور پر سامنے آیا ہے کہ وہ اس سرزمین کی سلامتی اور اس کے وسائل ترقی و ضروریات زندگی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

امریکہ کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ مشرق و مغرب کے تمام مسلمان حرمین شریفین کے ساتھ انتہائی مضبوط رشتہ قائم کیے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کی حفاظت کرے' یہ بلاد حرمین شریفین' مسلمانوں کے آخری جائے پناہ ہیں۔

ان بڑی طاقتوں کے یہ شر پسندانہ عزائم درج ذیل چھ امور انجام دینے کے لئے ہیں:

  • اس علاقہ میں یہودی حکومت کو برقرار رکھنے کا مستقل انتظام کرنا۔

  • ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا

  • اس علاقہ کے قدرتی وسائل اور دولت پر قبضہ کرنا

  • اسلامی دعوت و تبلیغ کے کام میں رکاوٹ ڈالنا

  • اس علاقہ میں بداخلاقی اور ہر اس چیز کو فروغ دینا جو اسلام کے منافی ہو اور علاقہ کے امن کو مستقل کشیدہ رکھنا۔