موجودہ دور
فتنوں کا دور ہے شہروں اور دیہاتوں میں جہالت
پھیل چکی ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کا
وہ علم جو ہر قسم کے شر سے پاک ہے جو ہدایت کا
ذریعہ ہے اسے پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور لوگوں
نے جہالت ، کفر ،شرک اور جمہوریت کی راہ
اختیار کرلی ہے قوانین الٰہی کو ترک کردیا گیا
ہے اور انگریز اور کفار کے قوانین مسلمانوں کے
ہاں رائج ہیں نام نہاد مسلمانوں نے شریعت
محمدی کو بے فائدہ سمجھ کر پیٹھ پیچھے پھینک
دیا ہے اسے ضائع کردیا ہے اب صرف نام کے
مسلمان رہ گئے ہیں۔ قرآن وحدیث کے علوم کی جگہ
انہوں نے سیاسی منطقی علوم اپنالیے ہیں اسکول
اور یورنیورسٹیاں قرآن وسنت کے مقابل آکھڑی
ہیں اور پھر بھی ان لوگوںکوخوش فہمی ہے کہ یہ
اچھے اعمال کررہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ
یہ بہت بڑے خسارے سے دوچار ہیں ان کے اعمال
دنیا میں ہی برباد وضائع ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے
کہ مسلمانوں کے دل اب طاغوتی اندھیروں میں
اندھے ہوگئے ہیں ہمارے علماءاور عوام سب
جمہوری طاغوتی بن گئے ہیں عوام الناس بھی
طاغوت اور جمہوریت کے سیلاب میں بہہ گئے ہیں
ان پر بشری شیطانی قوانین مسلط ہیں اور انہوں
نے وحی آسمانی اور قانون الٰہی کو ترک کردیا
ہے اور نام نہاد کلمہ گو اس کوپھر بھی ترقی کا
نام دیتے ہیں حالانکہ یہ بربادی اور رسوائی ہے
اللہ ورسول eکے قانون کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ
نکلا کہ اللہ نے مسلمانوں پر صلیبی کفار یا ان
کے حمایت یافتہ مرتد حکمران ان پر مسلط کردیے
گئے ہیں ۔آج ہر مسلمان کفریہ قانون کا محتاج
بناہوا ہے کوئی اپنے فیصلے اس کے پاس لیجاتا
ہے کوئی اس کی تعریفیں کرتا ہے اس کے لیے
مختلف نام بھی رکھ دیے گئے ہیں کوئی اسے
اسلامی جمہوریہ کہتا ہے کوئی اسے شرعی عدالت
کبھی اسے حقوق (کا محافظ)خیال کرتا ہے اس طرح
کے جتنے بھی نام رکھے جائیں سب دھوکہ وفریب یہ
شرعی منہج سے الگ راستہ ہے جس میںاسلامی حقوق
ضائع ہوتے ہیں۔ہم مسلمان بھائیوں کو متوجہ
کرنا چاہتے ہی اس بات کی طرف کہ ہم نے قرآن کو
پس پشت ڈال دیا ہے اور کفار کے ان قوانین پر
عمل پیرا ہوچکے ہیں جو انہوں نے اللہ کی شریعت
کے مقابل بنارکھے ہیں ہم سب کلمہ گو مسلمان
ہیں مگر ہم اللہ ورسول eکے احکام کے بجائے
کفار کے قوانین کو پسند کرتے ہیں اگر ہماری اس
طرح کی عقلیں ہیں تویہ کسی کام کی نہیں اس لیے
کہ جو عقل اللہ احکم الحاکمین (بہترین حکم
کرنے والے اللہ)کے قوانین کو چھوڑ کر ظالم اور
جاہل انسانوں کے قوانین کو اپنائیں ایسی عقلوں
پر ماتم کیا جانا چاہیے۔ ہماری مثال اس زنبور
کی سی ہے جو مشک وعنبر کی خوشبو سے تکلیف
وکراہیت محسوس کرتا ہے اور گندگی وغلاظت میں
خوش وخرم رہتا ہے افسوس ہے اس طرح کی عقل پر۔
جب ہم نے سالہا سال تک یہ دیکھا کہ لوگوں کی
یہ حالت ہے اور علماءومشائخ نے اس پر خاموشی
اختیار کررکھی ہے بلکہ بعض علماءتو خود
جمہوریت کے سیلاب میں بہہ گئے ہیں جن کی وجہ
سے عوام الناس بھی اضطراب وتردد میں مبتلا ہیں
لہٰذا میں نے سوچا کہ لوگوں کے سامنے جمہوریت
، طاغوت اور پارلیمان (اسمبلی)میں جانے کا کفر
واضح کردوں تاکہ میں اپنی ذمہ داریوں سے
سبکدوش ہوسکوں اور عوام الناس بھی شری شیطانی
قوانین سے خودکو محفوظ رکھ سکیں ۔
|
Essential Plug-in for
In Page and WinWord's
|

Calligraphic Fonts for Word and In
Page |

Quran Setup for MS-Office |
|
Back to
Home