|
ہم بڑے وثوق سے کہتے
ہیں کہ یہ دعویداران:
1 مرجئہ ہیں :جبکہ مسئلے کا
تعلق ان امراءو حکام سے ہو اللہ کے نازل کردہ کے بغیر قانون سازی
کرتے ہیں ۔
2 خوارج ہیں
: اہل السنہ کے متعلق اپنے موقف کے
تعلق سے یہ ایسے ہی ہیں جیسا خوارج کے متعلق کہا گیا کہ وہ بت
پرستوں کی مسلمانوں کے قتل میں مدد کرتے ہیں۔
3 صوفیہ ہیں : اپنے پیروکاروں کی
تربیت اور انہیں مشائخ کے اس منصب کے آگے جھکانے کے تعلق سے جو
صوفیہ کے نزدیک اولیاءکا ہم معنی ہے۔
4 سیکولر ہیں: سیاست کو دین وشریعت
سے الگ کرنے کے تعلق سے حالانکہ اللہ نے ہرمکلف کے لئے اسے لازم
کیا ہے کیا یہ لوگ عمررضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ
:”تم لوگ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر اور اللہ نے جو مجھے
تمہارا امیربنایا ہے اس کے متعلق خیر خواہی کرنے پر میری مدد
کرو“(الخراج از ابویوسف:ص
140)۔حاکم
کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اورخیرخواہی کرنا عمررضی اللہ
عنہ نے یہ فہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے حاصل کیا
جسے یہ دعویدار نہ سمجھ سکے ۔اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی
اس حالت سے سوائے جہالت،اندھی تقلید،مشائخ کے آگے سرتسلیم خم کرنا
اور جھکنے ،معترض کو دھتکاردینے ،لاپرواہی ،مسلمانوں کے مقابل
دشمنان دین کی صفوں میں کھڑے ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا جیسا
کہ ان کے عمل سے قطعاً ثابت ہے خواہ وہ کچھ بھی کہتے رہیں
۔
|