آدمیوں
کے ہجوم میں سے نکلنے والی یہ ایک چھوٹی سی
جماعت وہ تھی جس نے اسلام کے صاف اور شفاف
دسترخوان پر نشوونما پائی تھی ۔قرآن کی تعلیم
سے خود کو آراستہ کیا تھا۔عزت و شرف کے حامل
اپنے اسلاف کی سیرت پر غوروفکر کیا تھا ۔انہوںنے
اپنی ”دوستی اور دشمنی کا معیار“دین اسلام کو
بنایا تھا۔اپنی دوستی اور دشمنی کو انہوں نے
زمین وآسمان کے پروردگار کے لیے خالص کرلیاتھا
۔انہوںنے صاف صاف اور علی الاعلان کہہ دیا:
”اے ہماری قوم کے لوگو! ہم تم سے بیزار ہیں ،مشرق
ومغرب میں تم جن عالمی طاقتوں کی عبادت کرتے
ہو اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے سجدہ
ریز ہوتے ہو ہم ان سے بھی بے زار ہیں ۔ہم
تمہارے باطل معبودوں گندے اور گناہ آلودہ
ایجنڈوں اور عادات فاسدہ ومفسدہ سے لاتعلق ہیں
۔ہم اللہ رب العالمین کے سوا کسی کی عبادت
نہیں کرتے ،وہ اللہ جو پہلے اور پچھلے تمام
لوگوں کامعبود برحق ہے ،جو تمام آسمانوں اور
زمینوں کا واحد پروردگار ہے ۔ہم اپنے چہروں کا
رخ نہ کسی وائٹ ہاو ¿س کی طرف کرنا چاہتے ہیں
نہ ماسکو نہ لندن کی طرف ۔عالمی طاقتوں کی
لونڈی ”اقوام متحدہ“ہمارا قبلہ ہے اور نہ نام
نہاد ”سلامتی کونسل“۔ہمارا کعبہ وقبلہ صرف
”البیت العتیق“یعنی خانہ کعبہ ہے ۔عالمی
طاغوتی طاقتوں کے ورلڈ آرڈر کو ہم تسلیم کرنے
والے نہیں ہیں ۔ہمارے سامنے سَیّدُ الحُنَفَائِ
وَال ±مُحِبِّین جناب ابراہیم uاور ان کے
ساتھیوں کی ملت اور سیرت موجود ہے۔“انسانوں کے
بہت بڑے ہجوم میں سے کفار کے سامنے اسٹینڈ (Stand)لینے
والے چند نوجوانوں کی جماعت نے اپنی قوم کے
سامنے یہ اعلان براءت اس لیے کیا کہ قرآن مجید
کی سورة الممتحنہ کی آیت :4 ان کے دلوں کی
تختیوں پر منقش تھی ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”(مسلمانو!)تمہارے لیے ابراہیم uاور ان کے
ساتھیوںمیں بہترین نمونہ موجو د ہے ۔جبکہ ان
سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیاکہ ہم تم سے
اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان
سب سے بالکل بیزار ہیں ۔ہم تمہارے عقائد
ونظریات کا انکار کرنے والے ہیں ۔جب تک تم
اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان نہ
لے آو ۔“
چند مخلص نوجوانوں کی یہ جماعت ایسے اجلے اور
روشن چہروں والوں کی جماعت ہے۔جن کی پیشانیوں
پر بددیانتی ،خیانت ،لوٹ مار اورکرپشن کا کوئی
داغ اوردھبہ بفضل اللہ تعالیٰ نہیں ہے۔یہ بے
داغ ماضی کے حامل نوجوان تھے۔
ان کے ہاتھ ہر معاملے میں صاف تھے ۔اللہ کے
دشمنوں اور اسلام کے مخالفوں کے ساتھ انہوں نے
کبھی کوئی ساز باز نہیں کی ۔اسلام اور
مسلمانوں کے خلاف کافروں سے کوئی گندہ معاہدہ
نہیں کیا ۔مسلمانوں کی جائیداد اور املاک کو
کفار کے ہاتھوں فروخت نہیں کیا ۔انھوں نے مسلم
علاقوں میں کافروں کو من مانیاں کرنے اور کھل
کھیلنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا ۔یہ
خوددار ،غیرت مند اور باحمیت نوجوان دین کی
سربلندی اور شریعت اسلامیہ کے احیاءاور رسول
اللہ eکی سنتوں کی ترویج کے لیے کھڑے ہوئے تھے
۔
|
Essential Plug-in for
In Page and WinWord's
|

Calligraphic Fonts for Word and In
Page |

Quran Setup for MS-Office |
|
Back to
Home