اللہ نے جو بھی
نبی بھیجا اس کے بعد اس کے جانشین خلفاءبنائے
جنہیں حکم دیا کہ وہ لوگوں میں سیاست کریں
اللہ کی شریعت کے مطابق ان کی قیادت وسیادت
کریں۔ابوحازمa کہتے ہیں :میں ابوہریرہ tکے
ساتھ پانچ سال رہا ان سے میں نے رسول اﷲe کی
حدیث سنی آپ eنے فرمایا:بنی اسرائیل کی سیاست
انبیاءکرتے تھے اور جب کوئی نبی دنیا سے
چلاجاتا تو دوسرا نبی آجاتا اب میرے بعد کوئی
نبی نہیں ہے البتہ خلفاءہوں گے اور بہت زیادہ
ہوں گے صحابہ yنے پوچھا اللہ کے رسول اﷲe آپ
ہمیں کیا حکم کرتے ہیں ؟آپ eنے فرمایا:سب سے
پہلے والے کی بیعت کرو انہیں ان کا حق دیا کرو
اللہ ان سے تمہارے حق کے بارے میں باز پرس کرے
گا۔(مسلم،احمد،نسائی،ابن ماجہ)
امامت وخلافت کامنصب بہت ہی اہمیت کا حامل ہے
کہ اللہ نے فرشتوں کو مخاطب کرتے وقت انسان کو
خلیفہ کہا تھا ۔خلیفہ انبیاءکے جانشین ہوتے
ہیں جیسا کہ رسول اﷲ eکے فرمان سے ثابت ہوتا
ہے جو لوگوں کو اللہ کے دین پر قائم رکھتا ہے
اس لحاظ سے وہ امت میں نبی کاقائم مقام ہوتا
ہے خلیفہ ہی دنیا کی سیاست دین کے مطابق کرتا
ہے۔(احکام السلطانیة للماوردی:5)
خلیفہ ہی تمام لوگوں کو دنیاوی واخروی مصلحتوں
کو شرعی نقطہ نظر سے دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے
خلیفہ ہی دین کا تحفظ کرتا ہے اور اس کی روشنی
میں دنیاوی امور چلاتا ہے ۔(مقدمہ ابن خلدون:۶۲)
خلیفہ کا معنی ہے جو کسی کا جانشین بنے اسی
لیے اللہ نے آدم uکو خلیفہ قرار
دیا(البقرہ:30)
ابن جریرaفرماتے ہیں :﴾اِنِّی جَاعِل فِی
الاَر ضِ خَلِیفَةً(البقرة:۰۳)﴿کا مطلب
ہے کہ میں دنیا میں اپنانائب مقررکررہا ہوں جو
عدل اور حکم کرنے میں میرا خلیفہ ہوگا۔خلیفہ
آدم تھا اور جو بھی اس کا نائب ہو اللہ کی
اطاعت کرنے مخلوق میں عدل کے فیصلے کرنے میں
اسی لیے سلطان اعظم کو خلیفہ کہا جاتا ہے کہ
وہ اپنے سے پہلے والے امیر کا جانشین ہوتاہے۔
(ابن کثیر:1/108۱)
|
Essential Plug-in for
In Page and WinWord's
|

Calligraphic Fonts for Word and In
Page |
|
Back to
Home