وَمَا اَر سَلنٰکَ اِلاَّ کَآفَّةً لِلنَّاسِ بَشِیرًا وَّ نَذِیرًا وَلٰکِنَّ اَکثَرَ النَّاسِ لَا یَعلَمُونَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔(سبا:28)۔
جس طرح اﷲ تعالیٰ رب العالمین اور رب الناس ہے ملک الناس ہے، الٰہ الناس ہے یعنی تمام مخلوقات کا رب اور تمام انسانوں کا مالک و معبود اسی طرح وہ تمام انسانوں کی بھلائی بھی پسند کرتا ہے۔
مَا یَفعَلَ اﷲُ رَبُّکُم اِن شَکَرتُم  وَ آمَنتُم
اگر تم ایمان لاٶ اور شکر کرو تو اﷲ تمہیں کیوں عذاب دے گا؟
یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اچھی زندگی گزارنے، دنیوی و اُخروی فلاح و کامرانی کے لئے عقل و شعور سے نوازا ہے اور پھر صرف عقل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا بلکہ سلسلہ رسالت و نبوت کا آغاز کر کے اسے بار بار متنبہ کرتا رہا کہ کس طرح دنیاوی و اُخروی زندگی سنور سکتی ہے اور کن اعمال و عقائد کی وجہ سے دنیا و آخرت برباد ہو سکتے ہیں؟ سلسلہ نبوت کا اختتام خاتم النبیین جناب محمد الرسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بابرکت پر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اﷲ نے فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی بعثت تمام نوع انسانی کی فلاح و کامرانی کی ضمانت ہے مگر لوگ ہی نادان ہیں کہ آپ کی حیثیت آپ کی رسالت، شریعت و پیغام اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقام و مرتبہ سے بے خبر ہیں اور اپنی اس بے خبری و نادانی پر پشیمان و شرمندہ ہونے کے بجائے کامیابی و کامرانی کے ضامن دین کو بھیجنے والے رب کو چھوڑ کر ارباب متفرقون سے کامیابی کی اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ تمام روحانی امراض کے لئے شفاءکامل شریعت دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو پس پشت ڈال کر اپنے جیسے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین و دساتیر میں فلاح کی راہ ڈھونڈ رہے ہیں حالانکہ تمام تر تجربات کے بعد بھی یہ بات اچھی طرح واضح ہو چکی ہے کہ کوئی بھی انسان چاہے ارسطو ہو یا افلاطون انسانوں کی کامیابی و کامرانی کا ضامن آئین مرتب نہیں کر سکے، خامیوں اور کوتاہیوں سے پاک تمام افراد بشر کے مفاد کا ضامن قانون صرف اﷲ رب العالمین کا وہ قانون ہے جو اس نے اپنے آخری نبی جناب رحمة اللعالمین کے ذریعے انسانوں کو دیا ہے مگر خرد و عقل سے بیگانہ انسانوں نے اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جس طرح مشرکین فی العبادات نے پوجا و پرستش کے لئے بےشمار معبود بنا رکھے ہیں اسی طرح شرک فی الاطاعت میں مبتلا لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قوانین کو چھوڑ کر خود ساختہ قوانین کی پیروی شروع کی۔ شرک نظریات کے انتشار اور توحید وحدتِ نظریات کا نام ہے۔ چونکہ اسلام انسانی نفوس کی تہذیب کے لئے آیا ہے عرب و عجم شہری دیہاتی، ان پڑھ اور پڑھے لکھے سب کی تربیت کے لئے، فلاح کے لئے، کامیابی کے لئے انسانوں کو باہم متحد و متفق ہو کر کوشش کرنی ہو گی اور باہمی اتفاق و اتحاد تب ہی ممکن ہے جب ایک اﷲ ، ایک رسول اور ایک دین کی پیروی پر متفق ہوں گے۔ اس مقصد کے لئے علمائے اسلام نے تصنیفی و تبلیغی کوششیں کی ہیں اور کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ کی بیش قیمت کاوش رسائل بنام ”میراث الانبیاء“ بھی ہے جس میں توحید ربوبیت، الوہیت، کلمہ توحید کا صحیح مفہوم اور انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کی تردید بہت ہی علمی اور مدلل طریقے سے کی گئی ہے۔
عربی کی اس خوبصورت تصنیف کو اردو میں منتقل کرنے کی ذمہ داری راقم نے حتی الوسع بہتر انداز سے نبھانے کی کوشش کی ہے ۔ ادارے کی سابقہ نشریاتی خدمات میں یہ بھی ایک حسین اضافہ شمار ہو گی۔ ان شاءاﷲ۔ اﷲ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو مصنف، ناشر اور دیگر معاونین اور راقم کے لئے ذخیرئہ آخرت اور مسلمانوں کے لئے نفع کثیر کا ذریعہ بنا دے آمین۔

 

 

In Page version
جلد اول و جلد دوم

PDF version
جلد اول

PDF version
جلد دوم


جلد اول


جلد دوم


Essential Plug-in for In Page and WinWord's

Calligraphic for Word and In Page
Calligraphic Fonts for Word and In Page

Quran Setup for MS-Office
Quran Setup for MS-Office

 


Back to Home