تنقید نگاروں کی تنقیداور مجاہدین کی معصومیت
شیخ حسین ابن محمود
حفظہ اﷲ
جو کوئی بھی مجاہدین کو مخاطب کرنا چاہتا
ہے تو انہیں عزت سے کرنا چاہئے ۔جو کوئی بھی نصیحت کرنا چاہتا ہے، عزت سے
کرے۔ جو کوئی بھی تنقید کرے، خواہ ٹھیک ہو یا غلط وہ ہمیں منظور نہیں ہے۔
جس میں تمیز نہیں ہے، اسے اپنا منہ بند اور اپنی زبان سینی چاہیے اور اپنے
گھر میں بیٹھ کر مسلمانوں کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے۔ ان لوگوں
کی اصلیت اس وقت سامنے آجاتی ہے جب یہ طواغیت سے بات کرتے ہیں ، ان کے
افسروں سے بات کرتے ہیں اور کس طرح ایک ایک لفظ چن چن کر بولتے ہیں، لیکن
جب بات مجاہدین کی آتی ہے، تو جو جی میں آتا ہے، بول دیتے ہیں۔ اور جسے اﷲ
کا ڈر نہ ہو، وہ ہی ایسا کرتا ہے۔
مجاہدین انسان ہیں، ان سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور وہ صحیح
کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن آج وہ انسانوں کے سردار ہیں
اور کفر کے خلاف مسلمانوں کے جنگ کے امیر ہیں۔ وہی ہیں جو
آج میدان جنگ میں جل رہے ہیں اور اپنی زندگیاں قربان کر رہے ہیں۔ اور وہ ہی
ہیں جو مسلمانوں کی عزتوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر بار صرف
اس لئے چھوڑے ہیں کہ ایک اﷲ کی عبادت ہونے لگے اور اس کا دین سربلند ہو
جائے۔ جو لوگ مجاہدین کے احسانات کو نہیں مانتے اور ان کی عزت نہیں کرتے ،
ایسے ہی لوگ اصل میں بےعزت ہیں۔
اے اﷲہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہمیں
مجاہدین سے محبت ہے۔ اور ہمیں ان سے محبت ہے جو ان سے محبت کرتے ہیں۔ اور
ہم اپنے آپ کو مجاہدین کے دشمنوں اور ان کے ساتھیوں سے جدا کرتے ہیں۔
اے اﷲ مجاہدین کو ہر جگہ نصرت اور کامیابی
عطا فرما۔ اے اﷲ مجاہدین کو اپنے امان میں لے لے اور ان کی حفاظت فرما۔ اور
ان کو ایک لمحے کے لئے بھی اکیلے نہ چھوڑنا۔ مجاہدین کے دلوں کو صاف کر دے۔
ان کے صفوں میں اتحاد پیدا کر دے۔ ان کے قدم مضبوطی سے گاڑ دے اور ان کے
نشانوں کو صحیح کر دے۔ ان پر زندگی اور آخرت میں اپنا کرم فرما اور ان کی
شہادت کو قبول فرما۔ یا رحمان یا رحیم، اے اﷲ ان کو دشمنوں کی چھالوں سے ،
مکار وں کی مکاری سے، ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرما! امین
اﷲ سب سے بہتر علم رکھنے والا ہے۔ آپe
پر، آپ کے خاندان اور صحابہ کرامy
پر بے شمار درود و سلام۔
شیخ
حسین ابن محمود
۱۰
جمادی الاول 1428،MAY
,
27 ,
2007