سوال:خودکش
حملوں کا کیا حکم ہے؟اور جوشخص گرفتاری یا
دشمنوں کی طرف سے معلومات حاصل کرنے کے لیے
اغواءکیے جانے کی وجہ سے خودکشی کرتا ہے اس کا
کیا حکم ہے؟اور بعض مجاہدین جو طواغیت کے خلاف
حملے کررہے ہیں اور ان میں بے گناہ لوگ بھی مارے
جاتے ہیں تو ان حملوں کا کیا حکم ہے؟
جواب : اللہ کی مدد اور نصرت کے ساتھ ان
سوالوں کا مندرجہ ذیل جواب دے رہے ہیں :خود کش
اور فدائی حملے اس وقت کیے جاتے ہیں جب دشمن کی
تعداد بہت زیاہ ہو تو ایک یا کئی افراد مل کر
فدائی یا خودکش حملہ کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ
اس میں ان کی جان جائے گی ان کی موت یقینی ہے
موجودہ دور میں ان حملوں کی نوعیت یہ ہے کہ آدمی
کے جسم سے بم باندھ دیا جاتا ہے یا گاڑی میں
یاکسی بیگ وغیرہ میں رکھ کر اور بیگ ہاتھ میں لے
کر یا گاڑی یاجسم پر بم باندھے ہوئے دشمن کے
مجمع یاکسی اہم سرکاری دفتر یا عمارت میں گھس کر
خود کو اور دیگر لوگوں کو اڑادیتا ہے ۔اس کے لیے
وقت اورمکان کے صحیح انتخاب سے ہی دشمن کو بہت
زیادہ نقصان پہنچایا جاسکتا ہے موجودہ دور میں
خودکش حملوں کی یہ صورت اور طریقہ ہے کچھ لوگ ان
حملوں کو خودکشی قرار دیتے ہیں جوکسی بھی لحاظ
سے صحیح نہیں ہے۔خودکشی کرنے والے پر اللہ کی
لعنت ہوتی ہے ۔اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اللہ اس سے
ناراض ہوتا ہے خودکشی کرنے والا خود کوگھبراہٹ
بے صبری اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہوکر خود کو
ہلاک کرتا ہے اس کا یا تو ایمان کمزور ہوتا ہے
یا ہوتا ہی نہیں خودکشی کرنے والا خود کو بغیر
کسی شرعی مقصد کے ہلاک کرتا ہے مثلاً غصے یا
بیماری سے تنگ آکر یا غیرت وعزت کی وجہ سے یا
دیگر کسی ایسے مقصد کے لیے جو اعلاءکلمة اللہ کے
لیے نہیں ہوتا ۔
|
Essential Plug-in for
In Page and WinWord's
|

Calligraphic Fonts for Word and In
Page |

Quran Setup for MS-Office |
|
Back to
Home