محمد بن ابراہیم شقرہ نے سیرت کے عنوان پر یہ کتاب لکھی اور نام رکھا((السیرة النبویة العطرة فی الآیات القرآنیة المطرة))اپنے بادشاہ کو بطور ہدیہ کے پیش کی اور کہا کہ میں یہ کتاب شجرہ طیبہ کی ایک شاخ بادشاہ حسین بن طلال اعزہ اللہ فی الدارین کے حضور پیش کرتا ہوں اور اللہ سے دعاگو ہوں کہ ”وہ حسین کی زندگی کو لمبا کردے اور اس کی کاوشوں میں برکت دے اور لباس عافیت کو اس پر پھیلادے اور وفاداری کے اس تعلق کو اس کے اور اس کے گروہ کے مابین باقی رکھے اور مضبوط کرے یقینا وہ سننے اور قبول کرنے والا ہے“۔پھر ایسے شخص کو جس کا سلفیت سے کچھ تعلق نہیں سلف صالحین کا سردار قرار دیتا ہے کہ البانی کے بعد عالَم میں اگرکوئی سردار ہے تو وہ (یعنی حسین بن طلال)....سچ تو ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں )ان کے مو لفین نے ان کتابوں کو طاغوتوں کے دفاع اور ان کے باطل کوجائز اور ان کے جرائم کو معمولی بناکر پیش کرنے کے لئے لکھا ہے تاکہ اپنے مسلمان دشمنوں اور ان کے شرعی امراءکے خلاف ایک باطل شبہ قائم کردیں جیسا کہ بصیرت سے اندھوں کو اللہ نے ان کے ہاتھوں دے دیا بالآخر وہ اور ان کی روش پر چلنے والے ان (طواغیت)کے لشکری اور مددگاربن گئے پھر وہ کیونکر ایسی کتابیں نہ پھیلائیں جو ان کی حکومتوں کے لئے ان کے لشکروں اور مخبروں سے بڑھ کر حفاظت وحمایت کا سبب ہیں گویا لشکر بادشاہ کی تلوار سے لڑتے ہیں اور یہ (ناسمجھ عوام کے لئے)باعمل علماءاللہ کی تلوار (یعنی قرآن وحدیث)سے لڑتے ہیں اس طرح شبہ میں ڈالنا اور گمراہ کرنا تو بہت ممکن ہے ۔لوگ جو بادشاہ کی تلوار کے خوف سے اس کی بات مانتے ہیں ان کا ان علماءکی تلوار کے سامنے جھک جانا زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ اوردین کی بات کرتے ہیںاور شریعت کے دلائل پیش کرتے ہیں ۔
خرابی ہو بربادی ہو جو دنیا کاطالب ہے اور خواہش کا پیرواور دین کو طاغوت کے قدموں پر ڈھیرکرے اس عالم کے علم سے بڑھ کر نقصان دہ شئے کیا ہوسکتی ہے جس کے ساتھ دنیا جاہلوں کی ہمراہی میں کھیلے جو اپنے رب کی طرف مراقب اور اس سے خوفزدہ نہ ہو اس کے دونوں ہاتھ اور مال برباد ہوں ۔

 


Essential Plug-in for In Page and WinWord's

Calligraphic for Word and In Page
Calligraphic Fonts for Word and In Page

Quran Setup for MS-Office
Quran Setup for MS-Office

 


Back to Home