اسلامی تیونس میں اسلام پر پابندیاں
مضمون نگار :محمد ظہیر الدین بھٹی



تیونس 20مارچ 1956ءکو فرانسیسی تسلط سے آزاد ہوا ۔13اگست 1956ءکو سرکاری ضابطہ قوانین جاری ہواجس پر عمل درآمد یکم جنوری 1657ءسے شروع ہوا۔اس ضابطے کے زیادہ تر قوانین شریعت اسلامی کے بالکل مخالف ومتضاد بلکہ اس سے متصادم ہیں ۔آزادی کے بعد سے اسلام ، تیونس میں سخت دباؤ اور مظلومیت کا شکار چلا آرہا ہے ۔اب تو اسلام کے اصول و فروع ،احکام واخلاق اور آداب سب کچھ شدیدخطرے سے دوچار ہیں ۔یہاں پر اس کے شواہد پیش کیے جاتے ہیں :
پورے ملک میں شرعی عدالتوں کی تنسیخ کا کام آزادی کے بعد ہوا ۔انہیں عام عدالتوں میں ضم کردیا گیا ۔اسی طرح جامعہ الزیتونیہ کا شمار عالم اسلام کی قدیم ترین اسلامی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔اسے اموی گورنر عبداللہ بن المحجاب نے 732ءمیں تعمیر کروایا تھا۔یہ جامعہ پورے شمالی افریقہ میں اسلام اور عربی زبان کی حفاظت کا قلعہ رہی ہے مگر اب اس کا اسلامی تشخص ختم کردیا گیا ہے ۔مخلوط تعلیم رائج ہے ،جمعہ کی بجائے اتوار کے دن چھٹی ہوتی ہے اور موسیقی اور سرود کے کلبوں میں نمائندگی کی جاتی ہے ۔اس کا اپنا ایک ریڈیواسٹیشن ہے ۔جہاں سے جامعہ میں گانے نشر کیے جاتے ہیں ۔طالبات کے دوڑ کے مقابلے مردوں کے سامنے ہوتے ہیں ۔گانے بجانے کی محفلوں کے لیے گلوکار مرد اور عورتوں کو باقاعدہ مدعوکیاجاتا ہے ۔رمضان میں بھی یہ پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور محفلوں میں شرکت کی دعوت ادارے کے ڈائیریکٹر کی طرف سے دی جاتی ہے ۔جامعہ میں طلبہ کی تعداد فرانسیسی قبضے کے عہد میں 30ہزار سے زیادہ ہوتی تھی ،مگر آزادی کے بعد کے دور میں کل تعداد 65ہزار ہے ۔ان میں سے 85فیصد طالبات ہیں ۔جن کے لیے بے حجاب ہونالازمی ہے ۔نیز جامعہ کے اندر موجود تیراکی کے تالاب میں ،تیراکی کا مخصوص لباس زیب تن کرکے نہانا لازم ہے ۔
جامعہ زیتونیہ کے طلبہ اور علماءکے لیے وقف کردہ تمام شرعی اوقاف ضبط کرلیے گئے ہیں ۔اسی طرح ملک کی دیگر تمام مساجد اور خیراتی اداروں کے تمام اوقاف ،زمینیں اور جائیدادیں ختم کردی گئی ہیں ۔کئی چھوٹی مسجدوں کو گوداموں اور اسٹوروں میں بدل دیا گیا ہے ۔
حکومت تیونس رمضان کے روزے رکھنے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے کہ روزہ رکھنے سے پیداوار کم ہوجاتی ہے اورملکی ترقی اور پیش رفت میں رکاوٹ پڑتی ہے ۔
سابق صدر (مرتد)بورقیبہ (لعنہ اللہ )نے اپنے ایک خطاب میں عورت ومرد کی مساوات پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم عورتوں کی ترقی میں حائل سب رکاوٹوں کو دور کریں گے اور ہر سطح پر مرد وزن میں کامل مساوات قائم کریں گے ۔قرآنی حکم کہ میت کے ترکے میں ایک مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے ،کی رکاوٹ کو بھی دور کرکے دم لیں گے ۔ہم اس مسئلے کے لیے اجتہاد سے کام لیں گے تاکہ شرعی احکامات کو بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جاسکے (نعوذ باللہ من ذلک)
قرآن حکیم نے صاف الفاظ میں متنبیٰ (منہ بولابیٹا،بیٹی)کو حقیقی بیٹے کا درجہ دینے سے ممنوع قرار دیاہے ،مگر حکومت تیونس نے اس شرعی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے 4مارچ 1958ءکو صادر ہونے والے اپنے قانون نمبر 27میں اسے جائز قرار دیا ہے ۔قانون کی ذیلی شق 15کی رو سے ”متبنیٰ کو قانونی بیٹے کے حقوق حاصل ہوں گے ،نیز اس پر وہی فرائض عائد ہوں گے“
حکومت نے وقتاً فوقتاً ایسے قوانین جاری کیے ہیں جن سے تیونسی خاندان کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا ہے ۔اس نے عورت کو اخلاق باختگی کی اجازت دی ہے ۔بیوی کو یہ قانونی تحفظ دیا ہے کہ خاوند ،اپنی بیوی کے اخلاقی طرز عمل سے چشم پوشی کرے گا ۔اگرکوئی اپنی بیوی کو زناکا مرتکب پاکر اسے پکڑلیتا ہے تو یہ گویا بیوی کے ذاتی معاملات میں مداخلت متصور ہوگا اور ایسا شوہر سزائے موت تک کا مستوجب ہوگا۔
حکومت نے شرعی احکام وقوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے شادی کی آزادی کے معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں ، جس کی رو سے عورت کے خلاف تمام امتیازی قوانین کالعدم ہیں ۔ایک غیر مسلم کو اجازت ہے کہ وہ ایک تیونسی مسلم خاتون سے شادی رچائے اور اس لیے کہ صرف ایک مرد وعورت کی گواہی کو کافی قرار دیا گیا ہے ۔تیونسی ارکان پارلیمان نے بھی اس معاہدے کی توثیق کردی ہے ۔
قانون نمبر 108کے مطابق مسلم عورت کے لیے تمام سرکاری محکموں اور تعلیمی اداروں میں شرعی لباس پہننا ممنوع قراردیا گیا ہے اس لیے کہ اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے ۔نیز یہ انتہاءپسندی کی علامت ہے ۔باپردہ لباس پہننے والی خواتین پر علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔محض نماز کی ادائیگی اور اسلامی لباس پہننے کے جرم میں خواتین کو گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جاتا ہے اور سخت سزائیں دی جاتی ہیں ۔
آرڈی نینس نمبر 29کی رو سے تمام وہ مساجد منہدم کردی جائیں گی جو پرائیوٹ اور پبلک محکموں میں قائم ہیں ،جیسے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی مساجد۔مزدوروں اور ملازمین پر ڈیوٹی کے دوران نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔اس قانون کی رو سے مسجدوں میں درس قرآن دینے اور املا کروانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی ۔قانون پر عمل درآمد کے لیے حکومت نے پولیس کی ایک مخصوص جمعیت ،مساجد کی نگرانی پر مامور کردی ہے ۔ ہرنماز کے وقت مسجد صرف 20منٹ کے لیے کھلتی ہے ۔اس کے بعد پولیس کی یہ نفری مساجد کو نمازیوں سے خالی کرانے کی کاروائی کرتی ہے ۔نمازیوں کو باہر نکالتی ہے ،تاخیر سے آنے والوں کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیتی ۔اس قانون سے جامعہ الزیتونیہ بھی مستثنیٰ نہیں ہے ۔البتہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد پر کسی وقت بھی کھول دیا جاتا ہے ۔
تیونس میں نوجوان نمازیوں کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھاجاتا ہے ۔ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ کسی ممنوعہ انتہاءپسند تنظیم سے وابستہ ہیں یاکسی دہشت گرد جماعت کے ارکان ہیں ۔حکومت کے اس رویے نے مسجدیں ویران کردی ہیں۔اور نوجوان مسجد وںکا رخ کرتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔مسلم نوجوان ،پولیس افسروں کے سامنے ۔عمداًپنے دینی احساسات چھپاتے ہیں ۔صبح سویرے اٹھ کر وقت پرنماز ادا کرنا حکومت کے نزدیک انتہاءپسندی اور دہشت گردی کی نشانی ہے اور یہ نوجوان سزا اور قید کے مستحق ہیں ۔پولیس صبح سویرے گھروں کی نگرانی بھی کرتی ہے ۔اب حال یہ ہے کہ لوگ گھروں میں چھپ کر ،اندھیرے میں نماز پڑھتے ہیں ۔پولیس مشکوک نوجوانوں سے تفتیش کرتے وقت پہلا سوال یہ کرتی ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے یا نہیں ؟جواب اثبا ت میں ہوتو اسے طرح طرح کی سزائیں دی جاتی ہیں اور اس سے یہ اعتراف کرایا جاتا ہے کہ وہ ”اخوانجی“ہے یعنی اخوان کے ساتھ منسلک ہے ۔تیونس میں ”اخوانجی“ہونا ایک گالی ہے ۔اگر نوجوان اپنے نمازی ہونے کی نفی کردے اور دین سے بیزاری کااعلان کرے ،مگرپھر بھی پولیس کو ا سکے بارے میں شک ہو تو وہ اسے دین اسلام اور ذات الٰہی (اللہ)کو گالی بکنے کاحکم دیتی ہے(نعوذباللہ من ذلک)
ایک کمیونسٹ ملحد کی سربراہی میں اعلیٰ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اسلامی کتابوں کا جائزہ لیتی ہے اور پھر ایسی تمام کتابوں کو کتب خانوں سے ضبط کرلیاجاتا ہے ۔دکانوں اورنمائشوں میں ان کا رکھنا ممنوع ٹھہرایا جاتا ہے ۔اس لیے حکومت کے خیال میں اسلامی کتابیں ،انتہاءپسندی کا منبع ہیں۔مساجد میں قائم لائبریریوں کو ”بدعت “قرار دے کر ختم کردیا گیا ہے ۔شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں رقص و سرور کے مخلوط کلب وسیع پیمانے پر قائم کردیئے گئے ہیں ۔نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ان میں شمولیت کی ترغیب دی جاتی ہے اور والدین اور سرپرستوں کو شرکت پرڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔
عقیدہ  توحید کمزور کرنے اور لوگوں کے دلوں سے ایمان کو محو کرنے کے لیے گھروں کو اجاڑنے ،بے حیائی اوربدکاری کے فروغ کے لیے حکومت جادو ،ٹونے،ٹوٹکے اور کہانت کے فروغ میں دلچسپی لیتی ہے ۔حکومت جادوگروں اورنجومیوں کو اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دیتی ہے ۔اخبارات اور رسالوں میں ان کے اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں ۔حکومت تیونس نے ایک ویڈیو فلم کو تیونس کے دور جدید کے لیے باعث فخر قراردیتے ہوئے اس میں کام کرنے والوں کو سرکاری انعام اور ثقافتی میڈل سے نوازا ہے ۔اس میں عورتوں کے حمام میں ایک برہنہ نوجوان کو دکھایا گیا ہے ۔پبلک مقامات ،سرکاری مجالس ،عام محافل اورادبی نشریات میں الحاد وزندقہ کی لہر عام ہورہی ہے اور قابل تکریم رشتوں اور ہستیوں کی توہین وبے قدری فیشن بنتا چلاجارہا ہے ۔
یونیورسٹیوں میں مخلوط ہوسٹل تعمیر کیے گئے ہیں ۔جس سے اخلاقی اور جنسی بے راہ روی میں اضافہ ہوا ہے ۔حالت یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طلبہ اور طالبات کو کنڈوم دیئے جاتے ہیں ۔صہیونی مملکت کو تسلیم کرنے کے بعد اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے گئے ہیں ۔تیونس اب بدکاری اور جنسی بے راہ روی کا ملک بن چکا ہے ۔وزارت صحت کی طرف سے بندرگاہوں پر قائم دفتر تمام غیرملکی سیاحوں کوایک کارڈ دیتا ہے ۔اس کارڈ پر لکھا ہے ہوتا ہے ”ہر مشتبہ جنسی عمل کے وقت کنڈوم کا استعمال کیجئے ۔“ تیونس سے اسلام کے نشانات مٹانے کے لیے اب ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے الفاظ بھی ممنوع قرار پاچکے ہیں ۔کیونکہ سرکاری نظر میں یہ انتہاءپسندی کی علامت ہیں ۔یہ شدت پسندوں ،بنیاد پرستوں اور اخوانجیوں (الاخوان المسلمون والوں)کا اسلام ہے ۔حکام نے ٹیلیویژن، قومی اور مقامی ریڈیو پر ”السلام علیکم “کے الفاظ پر پابندی لگادی ہے ۔عوام نے بھی الزام سے بچنے کے لیے ان الفاظ کو ترک کردیا ہے۔
قانون نمبر 18کی رو سے ایک سے زائد شادی کرنے کو خلاف قانون قرار دیاگیا ہے۔
بشکریہ روزنامہ اسلام بدھ 10ربیع الاول 1429ہجری مطابق 19مارچ 2008ء
مرتد حکمرانوں کو مسلمان کہنے والے مرجئۃ العصرذرا غور کریں کہ وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے ؟
پاکستان کے مسلمانوں اپنی دینی اساس اور اقدار کو بچاؤاور اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کے لئے اپنے خون سے زمینوں کو سیراب کردو!!!



مسلم ورلڈڈیٹا پروسیسنگ پاکستان
http://www.muwahideen.tk
info@muwahideen.tk