بسم اللہ الرحمن الرحیم

ان الحمد ﷲ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نعوذ باﷲ من شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا من یھدہ اﷲ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ اما بعد:

        الحمد ﷲ والصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ
سیاست سے لاتعلقی دین کا گمراہ کن تصور ہے ۔ آسمان سے اوپر زمین سے نیچے یا ملک سے باہر ہی کی بات کرنا دین انبیاء کی نمائندگی نہیں
۔جاہلیت کی تاریکی چار سوپھیلی ہواور زندگی کا کوئی بھی گوشہ طاغوت کے پنجہ میں گرفتار ہو تو ورثہ نبوت یہ نہیں ہوا کرتا کہ اہل توحید معاشرے کی روش سے اتفاق واختلاف کے سلسلے میں ذاتی رائے“رکھنے پر اکتفاءکرتے ہوں ۔طاغوت سروں پر مسلط ہو تو خاموشی ہی ایمان باﷲ کے حق میں جرم ہوجایا کرتی ہے ۔پھر اگر باطل کے لئے تاویلات کی تلاش اور درمیانی راہیں نکالنے کا چلن ہوجائے اور روئے باطل کی پردہ پوشی حق سے کی جانے لگے تو یہ جرم ایسا ہے کہ آج تک صرف بنی اسرائیل کا امتیاز بن سکا ہے۔
شرک سے براءت کا
عقیدہ ایسا
نہیں کہ کوئی انسان یہ کہہ کر جان چھڑالے کہ وہ بھی اسے اچھا نہیں سمجھتا یا دل سے قبول نہیں۔طاغو ت کوئی پرہیزی “قسم کی چیز نہیں ہوا کرتی کہ صرف بے توجہی کا مستحق ہو ۔اس سے دشمنی وبراءت بھی کوئی نفلی عبادت نہیں جس کا کرلینا صرف درجات کی بلندی کا سبب ہو ۔اس آسمان کی چھت تلے طاغوت اﷲکا سب سے بڑا دشمن ہے اور عرش عظیم کے مالک سے ایمان وفاداری کے ثبوت کے لئے بلند ترین آواز میں اﷲکے اس دشمن سے بغض وحقارت کا اظہار اور مسمار کردینے کا عزم ہی ایمان کا حصہ‘نجات کا سبب اور انبیاء کا اہم ترین وبنیادی مشن ہے۔ہمارا یہ رسالہ اس فرض کی جانب توجہ دلانے کی ایک ادنیٰ سی کاوش ہے‘کیا بعید کہ اﷲتعالیٰ اسے اہل توحید کے دل کی آواز بنادے ۔

 یہ رسالہ الیکشن کے ساتھ خاص نہیں اس لئے کوئی صاحب اسے اخباری روزنامچہ نہ سمجھ لیں جو تاریخ اشاعت سے اگلے ہی روز اپنی افادیت کھودیتا ہے اور یوں بڑے آرام سے ردی کی نذرہوجاتا ہے ۔یہ رسالہ عقیدہ کی دعوت ہے اور اس دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے الیکشن سے بعد کا وقت بھی اتنا ہی مناسب ہے جتنا اس سے پہلے ۔

 

 

 

اب آپ پوری کتاب پڑھیے :
 

This Book has been updated in new format

 

 

Back to Home